بجٹ 2025–26: تجارتی خام مال اور درمیانے سامان پر کسٹم ڈیوٹی ختم — صنعتی ترقی کی جانب اہم قدم

بجٹ 2025–26: تجارتی خام مال اور درمیانے سامان پر کسٹم ڈیوٹی ختم — صنعتی ترقی کی جانب اہم قدم

By Rana Munawar Zaman - 24/06/2025 - 0 comments

بجٹ 2025–26 میں بڑی سہولت: تجارتی خام مال اور درمیانے سامان پر کسٹم ڈیوٹی کا مکمل خاتمہ

پاکستانی صنعتیں طویل عرصے سے بلند پیداواری لاگت، مہنگے خام مال، اور غیر مساوی عالمی مقابلے کی شکایات کرتی آئی ہیں۔
اسی تناظر میں حکومت نے بجٹ 2025–26 میں ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے:

"تمام تجارتی خام مال (Raw Materials) اور درمیانے درجے کے صنعتی سامان (Intermediate Goods) پر کسٹم ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔"


  خام مال اور درمیانہ سامان کیا ہے؟

  • خام مال: جیسے کپاس، اسٹیل، پلاسٹک، کیمیکل، آئرن اور دیگر بنیادی اشیاء
  • درمیانہ سامان: وہ اجزاء جو تیار مصنوعات میں لگتے ہیں، جیسے پارٹس، کمپوننٹس، آدھی تیار اشیاء (semi-processed inputs)

یہ دونوں اشیاء زیادہ تر درآمد کی جاتی ہیں اور ان پر لاگو کسٹم ڈیوٹی کاروباری لاگت میں اضافے کا سبب بنتی تھی۔


 حکومت کے مقاصد:

  1. صنعتی پیداوار کو سستا بنانا
  2. برآمدات میں اضافہ
  3. SMEs کو مقابلے کے قابل بنانا
  4. ملکی مصنوعات کو بین الاقوامی مارکیٹ کے لیے تیار کرنا
  5. IMF کی تجویز کردہ دستاویزی و شفاف اقتصادی پالیسی پر عمل درآمد

  ممکنہ فوائد:

پہلو

فائدہ

پیداواری لاگت

نمایاں کمی

برآمدی اشیاء

عالمی مارکیٹ میں سستی دستیابی

صنعتی فروغ

نئی فیکٹریاں اور روزگار

SME سیکٹر

خام مال کی سستی دستیابی


  صنعتکاروں کا ردعمل:

صنعتی حلقے اور چیمبرز آف کامرس نے اس فیصلے کو "بجٹ کا بہترین اقدام" قرار دیا ہے۔

"یہ پالیسی نہ صرف لاگت کم کرے گی بلکہ مقامی صنعتوں کو درآمدی متبادل بنانے میں مدد دے گی۔"


  ممکنہ خدشات:

  • درآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے
  • ریونیو میں عارضی کمی
  • اسمگلنگ اور غلط کلیئرنس کا امکان اگر نگرانی سخت نہ ہو

  معاشی ماہرین کی رائے:

"کسٹم ڈیوٹی کا خاتمہ صرف اس وقت مؤثر ہے جب اسے دستاویزی اور مانیٹرنگ نظام کے ساتھ نافذ کیا جائے۔ ورنہ یہ ریونیو کمی اور غلط استعمال کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔"


  مثال کے طور پر:

خام مال

پرانی ڈیوٹی

نئی ڈیوٹی

بچت

پلاسٹک رال

واضح کمی

صنعتی کیمیکل

10٪

بڑی بچت

پرزہ جات

15٪

صنعتی برتری


 سفارشات:

  • ایف بی آر کو HS Code کی شفاف فہرست جاری کرنی چاہیے
  • دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے ایکسپورٹ اور امپورٹ کے کراس چیکس ضروری
  • SMEs کے لیے آگاہی مہم
  • مقامی مینوفیکچررز کی حوصلہ افزائی

 نتیجہ:

تجارتی خام مال اور درمیانے سامان پر کسٹم ڈیوٹی کا خاتمہ ایک انقلابی فیصلہ ہے جو اگر صحیح طریقے سے نافذ کیا گیا تو یہ پاکستان کی صنعتوں، برآمدات، اور معیشت کو نئی بلندیوں پر لے جا سکتا ہے۔

یہ پالیسی مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دے گی، روزگار کے مواقع پیدا کرے گی، اور پاکستان کو درآمدی انحصار سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

 

Tags: خام مال پاکستان, کسٹم ڈیوٹی, درمیانہ صنعتی سامان, صنعتی ترقی, بجٹ 2025-26, حکومت پاکستان, ایف بی آر اصلاحات