Section 7E (Deemed Income Tax) کیا ہے
By Rana Munawar Zaman - 02/08/2025 - 0 comments
سیکشن 7E (Deemed Income Tax) کیا ہے؟
پاکستان میں مالی سال 2022-23 سے ایف بی آر نے سیکشن 7E کے تحت ایک نیا ٹیکس متعارف کروایا ہے جسے Deemed Income Tax on Capital Assets کہا جاتا ہے۔ اس ٹیکس کا مقصد اُن املاک اور بے حرکت اثاثوں (immovable properties) پر آمدنی ٹیکس عائد کرنا ہے جو مالک کی جانب سے کرایہ پر دیئے بغیر بھی مالی سال کے آخر میں فرضی (deemed) آمدنی کا حصہ تصور کی جاتی ہیں۔
سیکشن 7E کا بنیادی مقصد
سیکشن 7E کا مقصد ملک میں موجود جائیدادوں کی قابلِ ٹیکس مالیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ناشفافی اور غیر دستاویزی اثاثوں سے ٹیکس وصولی کو بڑھانا ہے۔ پاکستان میں اکثر لوگ اپنی جائیداد کو کرایہ پر دیے بغیر رکھتے ہیں جس پر آمدنی ظاہر نہیں کی جاتی؛ اس لیے حکومت نے یہ ٹیکس فرض کیا ہے تاکہ غیر منافع بخش اثاثوں سے بھی ٹیکس حاصل کیا جا سکے۔
ٹیکس کا حساب کتاب
- سیکشن 7E کے مطابق، ایک مالک کو اس کی پاکستان میں واقع جائیداد کی Federal Board of Revenue (FBR) کی جانب سے مقرر کردہ Fair Market Value (FMV) کی 5% کو فرضی آمدنی (deemed income) سمجھا جائے گا۔
- اس فرضی آمدنی پر انکم ٹیکس کی شرح 20% لاگو ہوتی ہے۔
- لہٰذا، اصل میں جائیداد کی FMV کا 1% ٹیکس کے طور پر ادا کرنا ہوتا ہے۔
مثلاً: اگر جائیداد کی FMV 30 ملین روپے ہے تو فرضی آمدنی 1.5 ملین روپے (30 ملین × 5%) ہوگی اور ٹیکس 300,000 روپے (1.5 ملین × 20%) ہو گا، یعنی 1% کا اثر۔
کون اس ٹیکس کے تابع ہے؟
- پاکستان کا کوئی بھی رہائشی فرد یا ادارہ جس کے پاس ملک میں اثاثے (زمین، عمارتیں وغیرہ) ہوں اور ان کی مجموعی FMV 25 ملین روپے سے زیادہ ہو۔
- FBR کی Active Taxpayers List (ATL) میں شامل ہونا ضروری ہے، یعنی ٹیکس فائلرز کو ہی یہ ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔
اہم استثناء اور چھوٹ
- ایک جگہ کی ملکیت رکھنے والے افراد جو واحد پراپرٹی کے مالک ہوں، عام طور پر اس ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔
- وہ جائیدادیں جو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہوں اور اس پر ٹیکس پہلے ہی ادا ہو رہا ہو۔
- کسانوں کی اپنی ذاتی کاشتکاری والی زمین (مگر فارم ہاؤس اور اس کے متعلقہ زمینیں شامل نہیں)۔
- وفاقی اور صوبائی حکومت، جنگی زخمی فوجی یا شہدا کے اہل خانہ کی ملکیت۔
- پہلی بار خریدی گئی جائیداد جس پر Advance Tax حسب دفعہ 236K ادا ہوا ہو۔
- جس کا مجموعی پاکیزہ FMV 25 ملین روپے تک ہو، وہ چھوٹ کا اہل ہوتا ہے۔
کیسے فائل کریں اور ٹیکس ادا کریں؟
- ہر سال جو ٹیکس دہندہ سیکشن 7E کے تحت آتا ہے، اسے اپنی جائیدادوں کی FMV ایف بی آر کے نظام کے مطابق جانچنی ہوگی۔
- ایف بی آر کے IRIS پلیٹ فارم پر اپنی جائیدادوں کی تفصیلات جمع کروانی ہوتی ہیں اور ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔
- چاہے ٹیکس نہ دینا پڑے، پھر بھی فائلنگ اور ڈی کلیریشن کرنا ضروری ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس (2025)
- ایف بی آر نے ممکنہ طور پر سیکشن 7E کو ختم کرنے یا آسان بنانے کی تجاویز دی ہیں تاکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھے۔
- ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے چند چھوٹ اور قوانین میں نرمی کی جا رہی ہے، مگر ابھی تک یہ ٹیکس لاگو ہے۔
نتیجہ
سیکشن 7E ٹیکس پاکستان کے ان قوانین میں سے ایک ہے جو مفروضہ آمدنی پر ٹیکس عائد کرتا ہے تاکہ جائیداد کے اثاثوں سے ہونے والی ممکنہ آمدنی کو بھی حکومتی مالیاتی ڈھانچے میں شامل کیا جا سکے۔ یہ ٹیکس ملک میں شفافیت بڑھانے اور ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کے لیے اہم قدم ہے، تاہم اس کے اطلاق اور چھوٹوں کو سمجھنا ہر مالک جائیداد کے لیے ضروری ہے تاکہ قانونی ذمہ داریوں سے بچا جا سکے۔
یہ معلومات مستند مالیاتی رپورٹس اور ایف بی آر کی سرکاری ویب سائٹ کی اطلاع کے مطابق تیار کی گئی ہیں تاکہ آپ کو پاکستان کے ٹیکس نظام میں سیکشن 7E کی مکمل سمجھ دی جا سکے۔
اگر آپ کو اس ٹیکس سے متعلق مزید مشورہ یا فائلنگ میں مدد چاہیے تو ماہر ٹیکس کنسلٹنٹ سے رابطہ کریں تاکہ آپ کی قانونی اور مالی مشکلات کم ہوں۔
Tags: سیکشن 7E, ٹیکس، Deemed Income, پاکستان, املاک, ایف بی آر, ٹیکس فائلنگ, ٹیکس قوانین, پراپرٹی ٹیکس
