وفاقی بجٹ کا تقریباً نصف حصہ قرضوں کی سودی ادائیگیوں پر خرچ ہوگا

وفاقی بجٹ کا تقریباً نصف حصہ قرضوں کی سودی ادائیگیوں پر خرچ ہوگا

By Rana Munawar Zaman - 24/07/2025 - 0 comments

وفاقی بجٹ کا تقریباً نصف حصہ قرضوں کی سودی ادائیگیوں پر خرچ ہوگا

تعارف

مالی سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ میں قرضوں کی ادائیگی کی شرح کی شرح سب سے بڑا حصہ ہے، جہاں تقریباً نصف وفاقی بجٹ یعنی 8.2 کھرب روپے قرضوں کی سودی ادائیگیوں اور اصل قرض کی ادائیگی پر صرف کیے جائیں گے۔ یہ صورتحال پاکستان کی خراب معیشتی حالت اور بڑھتے ہوئے قرضوں کی عکاسی کرتی ہے۔

بجٹ کی تفصیل اور اہم نکات

  • وفاقی بجٹ کا کل حجم تقریباً 17.5 کھرب روپے ہے، جس کا تقریباً نصف حصہ قرضوں کی ادائیگیوں (مقامی اور بیرونی قرضوں کے سود اور اصل ادائیگی) پر خرچ کیا جائے گا12۔
  • دفاعی شعبے کے لیے بھی 2.55 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے تعلیم، صحت اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کم ہو گئے ہیں1۔
  • قرضوں کی سود کی ادائیگی کے لیے قریبا 7.2 کھرب روپے مقامی اور 1 کھرب روپے بیرونی قرضوں کی سودی ادائیگی کے لیے رکھے گئے ہیں34۔
  • قرض کی ادائیگی پر اتنا بڑا حصہ خرچ ہونے کی وجہ سے ترقیاتی بجٹ کمزور ہو رہا ہے اور اہم عوامی فلاحی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں13۔
  • حکومت نے پنشن، سبسڈی، اور گرانٹس کے لیے بھی کئی ارب روپے مختص کیے ہیں، لیکن قرضوں کی ادائیگی کی بڑی ضرورت کے باعث مالی مشکلات بڑھ رہی ہیں13۔

اثرات

  • معیشت پر قرضوں کا بوجھ بڑھ کر ترقیاتی و عوامی خدمات پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔
  • قرضوں کی ادائیگی کی بلند شرح وفاقی حکومت کے لیے مالی منصوبہ بندی اور پالیسی سازی میں چیلنج ثابت ہو رہی ہے۔
  • ماہرین کا خیال ہے کہ قرضوں کی ادائیگی پر بڑھتے ہوئے اخراجات کے علاوہ محصولات بڑھانے، مالی نظم و ضبط بہتر بنانے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کی ضرورت ہے۔

نتیجہ

پاکستان کے مالی سال 2025-26 کا وفاقی بجٹ قرضوں کی ادائیگی کی ذمہ داریوں سے بھرا ہوا ہے، جہاں وفاقی بجٹ کا نصف حصہ قرضوں کی سود اور اصل ادائیگیوں میں صرف ہوگا۔ اس صورتحال میں ملک کو اپنی معیشت کو مستحکم بنانے اور قرضوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ اصلاحات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

Tags: پاکستان, وفاقی بجٹ, قرضے, سودی ادائیگیاں, معیشت, مالی سال 2025-26, بجٹ اصلاحات, ترقیاتی منصوبے, مالی دباؤ